دھوکا ھے دھوکا سراسر پیار نہیں ھے
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK دھوکا ھے دھوکا سراسر پیار نہیں ھے
ھے مطلبی زمانہ کوئی سچا یار نہیں ھے
کب کہاں کوئی آستیں کا سانپ نکلے۔۔۔
نہیں کچھ بھروسہ کوئی اعتبار نہیں ھے۔۔
کیوں سر جھکائے کھڑے ہو اپنے سامنے؟
فٹ سے کہدو اگر ہم سے پیار نہیں ھے۔۔
چلے آئو کہ حسرت دید ھے آ خر !!!۔
اور مزید اب وسعت انتظار نہیں ھے۔۔۔
پیار کا ہر لمحہ انمول ھے جانو۔۔۔
یقین مانو کوئی لمحہ بیکار نہیں ھے۔۔۔
نہ گھاٹا ھے اس میں نہ نقصاں کوئی۔
پیار بس پیار ھے کوئی روزگار نہیں ھے۔۔
یار ابھی کر لو گر کرنا ھے اقرار الفت۔۔
کہ زندگی کا کوئی بھروسہ اعتبار نہیں ھے۔
دل کی مرضی یار جسے چاھے پیار کرے۔
دل پر کوئی زور کوئی اختیار نہیں ھے۔۔۔
کیا اسد کی شاعری پر دھیاں دیتے ہو؟
نکمے کی شاعری کا کچھ اعتبار نہیں ھے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






