دیارِدل میں میرے جب سے تو نے قدم رکھا ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islmabadدیارِدل میں میرے جب سے تو نے قدم رکھا ہے
تیرے ہجر نے ہرلمحہ میری آنکھ کو نم رکھا ہے
تو میرا ہے اور میری دسترس میں بھی ہے لیکین
قسمت میں میری شائد، تیرے ہجر کا غم رکھا ہے
سوز ِعشق نے تو کردیا ہے اشک اشک مجے
چہرے کے تبسم نے ہی مگر میرا بھرم رکھاہے
وہ میرے لیے اک فسانے کے سوا کچھ بھی نہیں
ہائے تقدیر روا کیسا مجھ پہ یہ ستم رکھا ہے
وہ بھی میرے لہجے کی چاشنی سے ناشناسانکلا
اس نے بھی کتابِ دل میں مجھے مجرم رکھاہے
کمی تجھ می ہے نہ مجھ میں،نہ عشق میں کوئی
وصل کا موسم قدرت نے زندگی میں کم رکھا ہے
نہ حاصل ِ زیست ہے کچھ، نہ حاصل ِوفا کوئی
زندگی میں رضا میری فقط رنج و الم رکھا ہے
میں عشق میں بھی وحدت پہ بھی یقیں رکھتا ہوں
دریچہ ِ دل میں سجا کر میں نے اک ہی صنم رکھا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






