دیکھ کے تم کو ہوا میں مبتلاۓ اضطراب
Poet: فہد مشتاق فہد By: Fahad Mushtaq Fahad, sadiqabadدیکھ کے تم کو ہوا میں مبتلاۓ اضطراب
کچھ نہیں ہوتا مجھے اب ماسواۓ اضطراب
مجھ کو کرنا تھا خدا نے مبتلاۓ اضطراب
تو تمہیں بھیجا مرے آگے براۓ اضطراب
ہے زباں پر وِرد ہر دم ہاۓ ہاۓ اضطراب
ابتدا ہی میں ہوا ہے انتہاۓ اضطراب
تم نے دیکھا مجھ کو تو بے چین میرا دل ہوا
مختصر سا ہے مرا یہ ماجراۓ اضطراب
مان لُوں تجھ کو مسیحا بے تامل میں اگر
کر دے تُو ایجاد چارہ گر دواۓ اضطراب
روح میں میری کچھ ایسے ہو گیا پیوست یہ
جان جاۓ پھر کہیں یہ ساتھ جاۓ اضطراب
کیا فغاں کرتے ہو ہر دم تم نے یہ اچھی کہی
تم کو ہو معلوم جب یہ تم پہ آۓ اضطراب
یہ الم تم نے دیا یہ رنج بھی تم سے ملا
پھر بتاؤ کیوں نہ ہو جاؤں فداۓ اضطراب
باعثِ مضطر نہ کیوں کر ہو فہد پھر یہ غزل
لفظ ہر اک شعر میں کیا ہے سواۓ اضطراب
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






