ذہن کے گوشوں میں بند ماضی
Poet: Habibullah khial By: habibullah khial, islamabadمجھے پھر یاد آتا ہے کئی قصے پرانے
وہ مہکتے دن اور مدہم
ذہن کے گوشوں میں بند ماضی
کہیں اب بھی وہ زندہ ہیں
گرم سانسیں کہیں
دور راستے کی دھول کی مانند
بلاتی ہیں مجھے پھر سے
مسافر، عدم کی راہی
مجھے احساس ہونے کا
دلاتی ہیں۔
وہی پت جھڑ، وہی راستے
وہی پھر عدم سے دوچار
درختوں کے تنوں پر پھڑ پھڑاتے خشک پتے،
اور بے خیالی ، جھیل کا ساحل
وہ آبگینہ تیری آنکھوں کا بھر جانا
لرزتے ہونٹ سے بہتے
وہ ٹھنڈ لفظوں کی گرمائش
وہ بہتا بادہ تر، اور غموں کا آتشیں گھونٹ
اور وہ مخمور آنکھیں
مجھے پھر یاد آتی ہیں
رواج زندگی کا معاملہ بھی کچھ عجب سا ہے
کہیں دو پل گراں لگنا کہیں صدیوں کا کم پڑنا
کہیں پھر دور تک چل کر پلٹنا الوداع کہنا
گرجنا فکر کے بادل، محبت بارشیں کرنا
اور غموں کے سیل میں
بہہ کر ختم ہونا امر ہونا
مجھے پھر یاد آتی ہیں۔
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






