رات ویران ہے ، دل پریشان ہے
Poet: Ausaf Ahmad By: Ghazal, Karachiرات ویران ہے ، دل پریشان ہے
وحشتِ دل کا ، پورا ہی سامان ہے
تجھ کو ڈھونڈا بہت، میں نے میرے صنم
ہر گلی ہر ڈگر ، جیسے سنسان ہے
ہر بشر جو ملا ، مجھ کو اس راہ میں
دیکھ کر میری حالت ، وہ حیران ہے
مجھ کو آ واز دے ، اے مری دلربا
تھک کے میں چور ہوں ، جسم ہلکان ہے
پھر جو مل جائے ، تو مجھ کو میرے صنم
مین کہوں شوق سے، تو مری جان ہے
عمر بھر کی وفائوں کا ، یہ ہے صلہ
آ ج تو جان ِ جاں ،مجھ سے انجان ہے
بادلوں سے ڈھکا چاند ، مدھم سا ہے
روشنی کا مگر ، پھر بھی امکان ہے
غلطیاں مجھ سے سرزد، تو بے حد ہوئیں
تیرا محبوب آ خر ، کو انسان ہے
معاف کرتا ہے ، وہ ہر خطا کار کو
اپنے قران میں ، اسکا فرمان ہے
مجھ سے روٹھے رہو، میں محبت کروں
وہ ادا ہے تری ، یہ مری شان ہے
ٹوٹ کر تم کو ،کرتا رہوں پیار میں
یہ تمنا مری ‘ میرا ارمان ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






