رات
Poet: فرحین ناز طارق By: Farheen Naz Tariq, Chakwalان سیاہ یخ بستہ راتوں میں
تنہائی اک واحد ساتھی ہے
جو دل لٹانے آئے تھے
وہ جاں لے کر رخصت ہوئے
جہاں سفر کا آغاز ہوا تھا
وہی پھر انجام ہوا ہے
آہستہ سے کچھ کہنے کو
شنگرفی لب وا ہوئے تھے
اور پل بھر میں سب
رشتے ناطے تباہ ہوئے ہیں
اب بولائے بولائے سے
نجانے کہاں پھرتے ہیں
ان تاریک راتوں کی وحشت
اپنی جگہ پر قائم ہے
مگر جو قدم بڑھے تھے پذیرائی کو
اور ساتھی بنے تھے جو شام کو
رات کے سناٹے میں ڈھل چکے ہیں
آس کے جگنو مر چکے ہیں
رشتے ناطے سب جل چکے ہیں
آنکھوں میں نئی امید بسائے
پنچھی تو کب کے اڑ چکے ہیں
اور ہم
خود کو اسی دشت میں سنگسار کیے
کب کے لاشے دفنا چکے ہیں
پھولوں کی چاہ میں خود کو
قبرستان بنا چکے ہیں
اب آزمانے کو کیا باقی رہا ہے
مہمان تو سارے جا چکے ہیں۔لله
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






