رخ کی زیبائی
Poet: Azra Yasmeen By: Bakhtiar Nasir, Lahoreاب کہاں ہے وہ رخ کی زیبائی
اب تیرا غم ہے اور تنہائی
تم گئے‘ زندگی میں رعنائی
پھر کبھی بھول کر نہیں آئی
تیری صورت کا نور دیکھا تو
چاند کی چاندنی بھی شرمائی
تو نے بخشی ہے چاندنی بن کر
میرے ظلمت کدے کو رعنائی
جان جو نکلے تو تیرے قدموں میں
ہم تماشا ہوں‘ تم تماشائی
کاش چپکے سے تم چلے آؤ
بج اٹھے پھر خوشی کی شہنائی
دل میں ارماں ہے تم سے ملنے کا
ہے نظر دید کی تمنائی
ان کی باتیں جو یاد آتی ہیں
درد لیتا ہے دل میں انگڑائی
ہم بھی نادان ہیں ک سقدر عذرا
ہوگئے غم میں ان کے سودائی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






