رشتوں کی دوکان
Poet: کنول نوید By: kanwal naveed, karachiروتے ہی رہتے ہیں صدا انسان جو ہوں تاجر
قسمت کہاں خرید پایا ہے کوئی سازوسامان سے
دوست یہاں اکثر ہی بن جاتے ہیں کیوں دشمن
کیوں نہ شوق سے چلے جائیں ہم اس جہاں سے
ہر کسی کا یہی رونا ہے کہ کچھ کمی ہے باقی
ملتا ہی کیا ہے کسی کو اس ان چاہے مکان سے
سب کچھ ہے میسر مگر سکون سے ہیں عاری
حیران ہیں بہت ہم اپنے اس دل کے آستاں سے
مٹی میں دفن ہیں تو نہیں کوئی رہی شوکت
دنیا میں جو نظر آتے تھے کسی حکمراں سے
شیطان کہاں کر سکتا ہےایسا برباد کسی کو
ڈریں نہ کیوں ہم پھر انسان ہو کر انسان سے
پہلے کہا کرتے تھے جسے گھر اب نہیں ہے
تنگ آگئے ہم کنول اس رشتوں کی دوکان سے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






