رنج کی وہ رمزیں جنہیں ہم گھٹنا سمجھتے ہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiرنج کی وہ رمزیں جنہیں ہم گھٹنا سمجھتے ہیں
حسرتوں کے ملال تو انہیں رچنا سمجھتے ہیں
جو دے گیا کبھی اسے بھی قصوروار ٹھہراؤ
ہر درد کو پھر سے کیوں اپنا سمجھتے ہیں
یوں تو خطائیں خطائی سے ہوتی ہیں مگر
سرکشی کو بھی کہیں اک جرم جتنا سمجھتے ہیں
جن کو پتوں کی سرسراہٹ سے شور لگتا ہے
انہیں گوشوں سے پھر پھولوں کے تمنا رکھتے ہیں
میرے آنکھوں کے خواب ہیں آگے کیلئے
جو گذر گیا پل اُسے سپنا سمجھتے ہیں
اس الہامی میں رہکر بھی جان لیا سنتوش کہ
زندگی کے گذار لوگ زندگی کو کتنا سمجھتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






