روح کی آواز تک چلا
Poet: saiyaan_sham By: saiyaan_sham, rawalpindiخوابی سلسلا تھوڑا میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر
اس نے میرا ساتھ چھوڑا لوگوں کا قرض سمجھ کر
وابستہ ہے میری زندگی کی سب حسین یادیں اسکی خوشبو سے
رفتہ رفتہ اسکا لوہو بدل رہا ھے کسی اور کی خو شبو سے
برداشت نہیں ہوتا اسکا پامال ہونا
کیا کروں عادت ہے اسکی لذت میں نڈھال ہونا
حسین چہرے کے ساتھ عادت ہے اسکی دلوں سے کھلنا
لرز گیا میں اس وراثتی عادت سے
اب خاموشی اوڑھ لی میں نے اپنا انجام دیکھ کر
اب ہنس رہی ہیں مجھے انجان سمجھ کر
جلانے کے کیے مجھے اس نے اپنا محبوب خریدا ھے
بانہوں میں ہیں دن رات مگر سکون نہیں اسکو
میں نے بہی لکھ لکھ کر دعا بھجھی ھے
جب تھک گیا ظلمت سے تو پھر جوڑا خوابی سلسلہ میں نے
اسکا ہاتھ چھوڑ کر
اس نے بھی میرا ساتھ چھوڑا لوگوں کا قرض سمجھ کر
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






