ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار
Poet: Ahmed Nadeem Qasmi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار
ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لادوں
میں تیرے سامنے انبار لگا دوں لیکن
کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا
سُرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا
یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتھر
جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے
کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہو گی
جس پہ حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہے
اِک وہ پتھر ہے جسے کہتے ہیں تہذیبِ سفید
اس کے مر مر میں سیہ خون جھلک جاتا ہے
ایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر
ہاتھ میں تیشۂ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہے
جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں
جتنے افکار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں
شعر بھی رقص بھی تصویر و غنا بھی پتھر
میرا الہام تیرا ذہن رسا بھی پتھر
اس زمانے میں تو ہر فن کا نشاں پتھر ہے
ہاتھ پتھر ہیں تیرے میری زباں پتھر ہے
ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






