زخموں کا موسم
Poet: ہیکل ہاشمی By: Haikal Hashmi, Dhakaسوچتا ہوں جب دُکھ ہی حاصلِ جاں ہو
پھر تو زندگی اپنی دُکھوں کی دُکاں ہو
رنگ بِرنگے دکھ طاق پہ سجے ہیں
کاسنی کہیں، آتشی دہکتا ہوا رنگ
سُرخ شریانوں سے ٹپکتا ہوا رنگ
سوزشِ دل سے پگھلتا ہوا رنگ
ہجر کی آگ میں سلگتا ہوا رنگ
تیری یادوں سے مہکتا ہوا رنگ
سوچتا ہوں، عشق نہ ہو جیسے کوئی امتحاں ہو
ہر روز ایک نیا آموختہ پڑھنا
ہجر و وصل کی داستاں پڑھنا
اشاروں کی مبہم زباں پڑھنا
زندگی کے سُود و زیاں پڑھنا
پھر سوچتا ہوں زخم کھلنے کے لئے
کوئی خاص موسم ہو ضروری تو نہیں
جب تُم ہی نہیں ہو میری دُنیا میں
زخموں کے پھول کھلیں، کونپلیں پھوٹیں
درد کب در آئے کسے معلوم
ہم تیار بیٹھیں رہیں
وحشتِ دل کے لئے کب کیا ساماں ہو
کوئی رُت نہیں ہے جنوں کی
موسم ِ گل ہو کہ خزاں ہو
درد ہو، کسک ہو، خیالِ جانِ جاں ہو!
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






