زخم کھاتے رہے کسی کو بتا نہ سکے
Poet: M.masood By: M.masood, Nottinghamزخم کھاتے رہے کسی کو بتا نہ سکے
چاہتوں کی حد تک چاہا اَسے
صرف اپنا دل نکال کر اَسے دیکھا نہ سکے
کتنے دور نکل گۓ
رشتے نبھاتے نبھاتے
خود کو کھو دیا ہم نے
اپنوں کو بتاتے بتاتے
لوگ کہتےہیں کہ
درد ہے میری شاعری میں
اور ہم تھک گۓ مسکراتے مسکراتے
کبھی کبھی رشتے
نبھاتے نبھاتے راستے کھو جاتے ہیں
اور کبھی کبھی رشتے
نبھاتے نبھاتے راستے بن جاتے ہیں ،
کسی کو رشتے راس آ جاتے ہیں
اور کسی کو راستے
فرق صرف اتنا ہے کہ
راستوں کے دکھ برداشت ہو جاتے ہیں
لیکن رشتوں کے نہیں
قدر کیجئے
ہر اس رشتے کی جو الله رب العزت نے آپ کو عطا کیا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






