زخم کی بات نہ کر زخم تو بھر جاتا ہے
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہورزَخم کی بات نہ کر زَخم تو بھر جاتا ہے
تیر لہجے کا کلیجے میں اُتر جاتا ہے
موج کی موت ہے ساحل کا نظر آ جانا
شوق کترا کے کنارے سے گزر جاتا ہے
شعبدہ کیسا دِکھایا ہے مسیحائی نے
سانس چلتی ہے ، بھلے آدمی مر جاتا ہے
آنکھ نہ جھپکوں تو سب ناگ سمجھتے ہیں مجھے
گر جھپک لوں تو یہ جیون یوں گزر جاتا ہے
مندَروں میں بھی دُعائیں تو سنی جاتی ہیں!
اَشک بہہ جائیں جدھر ، مولا اُدھر جاتا ہے
حُسن اَفزا ہوئی اَشکوں کی سنہری برکھا
پھول برسات میں جس طرح نکھر جاتا ہے
غالبا تخت پہ جنات کا سایہ ہو گا!
کچھ تو ہے ہر کوئی آتے ہی مکر جاتا ہے
’’ایسی‘‘ باتیں جو ’’اَکیلے‘‘ میں نہ ’’دیوانہ‘‘ کرے
بادشہ وُہ بھرے دَربار میں کر جاتا ہے
گر نہ لکھوں میں قصیدہ تو ہے تلوار اَقرب
سر بچا لوں تو مرا ذوقِ ہنر جاتا ہے
قیس ! گر آج ہیں زِندہ تو جنوں زِندہ باد!
سوچنے والا تو اِس دور میں مر جاتا ہے
شہزاد قیس کی کتاب "اِنقلاب" سے انتخاب
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






