زمیں مہنگی پڑی ہم کو
Poet: By: Sumera Ataria, GUDDUزمیں مہنگی پڑی ہم کو یہ گھر مہنگا پڑا ہم کو
کوئی اذن سفر شاید مہنگا پڑا ہم کو
جسے مانگا تھا ہم نے وہ کبھی بھی مل نہ پایا
یہ لگتا ھے دعاؤں کا اثر مہنگا پڑا ہم کو
ہوئی جب سے شناسائی ہماری ان ادیبوں سے
سخن سے آشنائی کا ہنر مہنگا پڑا ہم کو
کوئی جذبہ سمجھ نہ آیا ہائے اس کی محبت کا
کسی کی سوچ کا ذوق نظر مہنگا پڑا ہم کو
نہیں چھپنے دیا ہوتا یہ فن ادبی رسائل میں
کہ اب شہرت کا درجہ کس قدر مہنگا پڑا ہم کو
بھرے اس شہر میں راشد کوئی ہم کو بھی پسند آیا
گلی مہنگی پڑی اس کی وہ در مہنگا پڑا ہم کو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






