زندگی گہرےسمندرمیں گرپڑی ہو جیسے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadزندگی گہرےسمندرمیں گرپڑی ہو جیسے
میرے دل سے کوئی آہ سی اٹھی ہو جیسے
تجھ سے دل کا میرے کچھ ایسا رشتہ ہے
ڈور دھڑکن کی تیرے نام سے جڑی ہو جیسے
دور دور تک تُونہیں پھر بھی یہ لگتا ہے کہ
چاپ قدموں کی کہیں پاس ہی سے آرہی ہو جیسے
آنکھوں میں آج پھر میرے لہو اترا ہواہے
تیری یاد رگِ جاں میں آ چُبھی ہو جیسے
کٹ رہی ہے ہر شب میری دہکتے انگاروں پر
میرے دل میں محشر کی کوئی آگ لگی ہو جیسے
ایسا لگتا ہے جہاں چھوڑا تھا اُس نے مجھے
زندگی آج بھی میری اُسی موڑ پہ کھڑی ہو جیسے
تجھ کو کھو کر ہی یہ احساس ہوا ہے مجھ کو
میں نے زندگی ہی اپنی کھو دی ہو جیسے
یہ سوچتے اکثر سکتے میں چلا جاتا ہوں
بات جانے کی کوئی تم نے کہی ہو جیسے
چلے آتے ہیں رضاسبھی اُلفت جتانے مجھ سے
ہر دکھ نے میری چوکھٹ دیکھ لی ہو جیسے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






