زیست کسی آدمی کی ضائع بھی تو ہوتی ہے
Poet: ناصر نواز By: nasir nawaz, karachiلازم ہے کہ عام سے چہرے چاہے جائیں؟
حیات یوں تنہا بھی تو بسر ہوتی ہے
اک کمرہ ہو اور چائے کی پیالی بھی
آنکھوں میں زرا نمی بھی تو ہوتی ہے
کوئی مہ جبیں یا کوئی بھی خوشی ہو کہیں؟
آدمی کے رزق میں قلت بھی تو ہوتی ہے
بنانے والے نے دل دیا صنف نازک جیسا
مگر صنف نازک بہت دور بھی تو ہوتی ہے
اب سب کو سب ہی سے مطلب ہے فقط
اب دلوں میں بھلا ذات کہاں ہوتی ہے
تو بھی آباد ہوتا کسی دل کے مکان میں
مکین ہونے کے لئے صورت بھی تو ہوتی ہے
میلا لگا رکھا ہے کم بخت اِس روزگار کے سبب
آدمی کو وحشت سے محبت بھی تو ہوتی ہے
پر فحاش دور، اور چارہ گر نہیں کوئی
ایسے میں خدا سے ملاقات بھی ہوتی ہے
یہ اذیتیں کچھ بھی نہیں بدلے تیرے اعمال کے
مسجود ہوں شرمسار ہوں معافی بھی تو ہوتی ہے
چہرے پر مل کر خاک، مقدر میں مقفل ہوجا ناصر
زیست کسی آدمی کی ضائع بھی تو ہوتی ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






