سب بیت گئے۔۔۔۔
Poet: sumera ataria By: sumera ataria, GUDDUوہ دن وہ راتیں سب بیت گئے
جتنے بھی خشیوں کے لمحے تھے سب بیت گئے
اب اکیلی پھرتی ھوں سردیوں کے شاموں میں
تیرے ساتھ گزرے ھوئے سب دن بیت گئے
مجھے تنھائیوں سے وحشت تھی اور اب بھی ھے
لیکن محفلوں میں جانے کے دن سب بیت گئے
میری آنکھیں ھر وقت برستی ھیں بادلوں کی طرحاں
ھنسنے مسکرانے قھقھے لگانے کے دن سب بیت گئے
میں ھر وقت اداس شام کی دھلیز پر بیٹھتی ھوں
کیونکہ میری شوخیوں کے لمحے سب بیت گئے
اب اور کسی سے کیا شیکایت کروں اپنی زندگی کی اے عطاریہ
میری زندگی کے حسین لمحے سب بیت گئے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






