سب کچھ پا کر بھی کھو دیا میں نے
Poet: Sobia waqar By: Sobia waqar, Lahoreسب کچھ پا کے بھی کھو دیا میں نے
کیا پایا اور کیا کھو دیا میں نے
وہ جو کہتا تھا سب قربان کرکے تمہیں پایا ہے میں نے
چھین کر میرا سب , میرے ہی حال پر چھوڑ دیا اس نے
وہ جو کہتا تھا پیار ہے تم سے بے پناہ
کر کے اعتبار اس پر اپنے آپ کو کھو دیا میں نے
جب نہ کرتی تھی محبت و اعتبار اس پر
کھا کر جھوٹی قسمیں ,مجھ کو مجھ سے بد گمان کر دیا اس نے
تھا ہاتھ میری بربادی میں کچھ میرے اپنوں کا بھی
اپنے ہی آستین کے سانپوں سے زندگی کو ڈھسوایا میں نے
دیکھتی رہی کھلی آنکھوں سے سب گناہ اس کے
پھر بھی اندھا اعتبار کیا اس کی بے وفائی پر میں نے
سمبھال رکھا ہے میرے رب نے اب تک مجھے
ورنہ کیا تباہ خود کو , اپنے ہی ہاتھوں سے میں نے
اب کیوں سوچوں
سب کچھ پا کے بھی کھو دیا میں نے
کیا پایا اور کیا کھو دیا میں نے۔۔
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






