سجاتا بھی مُجھے ہے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quettaناز اُس کے اُٹھاتا ہُوں رُلاتا بھی مُجھے ہے
زُلفوں میں سُلاتا بھی، جگاتا بھی مُجھے ہے
آتا ہے بہُت اُس پہ مُجھے غُصّہ بھی لیکِن
پیار اُس پہ کبھی ٹُوٹ کے آتا بھی مُجھے ہے
در پے ہے مِری جان کے، جو پِیچھے پڑا ہے
وُہ دُشمنِ جاں دوستو بھاتا بھی مُجھے ہے
انجان بنا رہتا ہے، بیزار دِکھے، پر
وحشت میں، وہ تنہائی میں پاتا بھی مُجھے ہے
گر آئے جفا کرنے پہ، تَوبہ مِری تَوبہ
وُہ قِصّے وفاؤں کے سُناتا بھی مُجھے ہے
جنّت کی کوئی سیر کراتا ہے رفِیقو
دوزخ میں مگر کھینچ کے لاتا بھی مُجھے ہے
میں اُس کی دُعا بن کے مچلتا ہُوں لبوں پر
دِن رات وُہ ہونٹوں پہ سجاتا بھی مُجھے ہے
جو اسپ سمجھتا ہے لگاموں کو پکڑ کر
پھر شخص وہی ایڑھ لگاتا بھی مجھے ہے
وُہ جِیت کی اسناد مِرے نام لگا کر
خنجر سے کوئی گھاؤ لگاتا بھی مُجھے ہے
آتا ہے مِرے گھر کو سجانے کے لِیئے بھی
جب نِیند کُھلے چھوڑ کے جاتا بھی مُجھے ہے
پہلے تو بُلاتا ہے بڑے شوق سے حسرتؔ
پِھر ڈانٹ کے محفِل سے اُٹھاتا بھی مُجھے ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






