سدا ہم کو محبت میں ۔۔۔
Poet: مہوش مہر By: Mehwish, Karachiسدا ہم کو محبت میں سہارے مار دیتے ہیں
سمندر کچھ نہیں کہتا کنارے مار دیتے ہیں
زمانے کا ازل سے ہے یہی دستور میرے دوست
سزا یوں دیتے ہیں ہم کو دلاسے مار دیتے ہیں
سنو ہم جو شکستہ پا ہیں تو اک بھید ہے اس میں
ہمیں اکثر ہمارے اپنے پیارے مار دیتے ہیں
ہماری جیت کیا ہوگی ترے یوں سامنے آ کر
تری آنکھوں کے یہ ہم کو اشارے مار دیتے ہیں
ہزاروں صدمے ہم پر بے اثر رہتے ہیں غیروں کے
کبھی جو بہتے ہیں آنسو تمہارے مار دیتے ہیں
سمے بھی کاٹ کھاتے ہیں وہ خواہش بین کرتی ہے
جو مہوش تم نہیں ہو تو نظارے مار دیتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






