سرحد کے اس پار
Poet: Shamsul "ShamS" By: Shamsul Hasan, New Delhiجانے کیا کیا چھوٹ گیا ہے سرحد کے اس پار
کوئی ہم سے روٹھ گیا ہے سرحد کے اس پار
گاؤں کی گلیاں بستی آنگن چبارو سے دور ہوا
تم بھی تھوڑے روٹھے ہم سے اور میں بھی مجبور ہوا
جسم یہاں ہے روح ہے میری سرحد کے اس پار
کوئی ہم سے روٹھ گیا ہے سرحد کے اس پار
دور تھا ایسا ہم تم دونوں ساتھ مے کھیلا کرتے تھے
ہر بحران ہر دشواری کو ساتھ مے جھیلا کرتے تھے
دو ٹوكڑو کا ایک حصہ ہے سرحد کے اس پار
کوئی ہم سے روٹھ گیا ہے سرحد کے اس پار
جانے کتنی سدييا ہم تم سے محبت وفا کے رہبر تھے
گر ہم تھے خاموش کنارہ تو تم ہی ایک سمندر تھے
محض دلوں کا درد لئے ہم سرحد کے اس پار
کوئی ہم سے روٹھ گیا ہے سرحد کے اس پار
جانے کیا کیا چھوٹ گیا ہے سرحد کے اس پار
کوئی ہم سے روٹھ گیا ہے سرحد کے اس پار
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







