سر کو آواز سے وحشت ہی سہی
Poet: عامر سہیل By: مصدق رفیق, Karachiسر کو آواز سے وحشت ہی سہی
اور وحشت میں اذیت ہی سہی
خاک زادی ترے عشاق بہت
میں تری یاد سے غارت ہی سہی
وہ کہاں ہیں کہ جو مصلوب نہ تھے
میری مٹی میں بغاوت ہی سہی
آہ و آہنگ و اہانت کے کنار
اے مری پیاس پہ تہمت ہی سہی
خود سے میثاق غلط تھا میرا
اے ترے خواب ضرورت ہی سہی
عشق اے عشق عزادار ہوں میں
دوش پہ بار ہزیمت ہی سہی
پھر کسی خواب کی بیعت کر لیں
پھر کسی دکھ کی تلاوت ہی سہی
ایک خواہش کہ جسے سینچ سکیں
رائگانی کی ریاضت ہی سہی
ہم سے کچھ اور تو کیا ہونا ہے
اک ترے غم کی حفاظت ہی سہی
لوٹتے ہیں کہ بلاتا ہے کوئی
بارش سنگ ملامت ہی سہی
ٹوٹتے ہیں کہ نشہ ٹوٹتا ہے
خود سے ملنے میں اذیت ہی سہی
اب کسی اور کی خواہش ہی کہاں
اب ترے ہجر سے فرصت ہی سہی
کاغذی شہر اڑے جاتے ہیں وہ
آسمانوں کی رفاقت ہی سہی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






