سوچتا ہوں سدا میں زمیں پر اگر کچھ کبھی بانٹتا
Poet: انعام عازمی By: Zaid, Sialkotسوچتا ہوں سدا میں زمیں پر اگر کچھ کبھی بانٹتا
تو اندھیروں کے نزدیک جاتا انہیں روشنی بانٹتا
تیرے ہوتے ہوئے ہم تجھے ڈھونڈتے پھر رہے تھے عزیز
کاش تو ہر گھڑی ہر جگہ ہم سے موجودگی بانٹتا
خالقا مجھ کو معلوم ہوتا اگر آخری موڑ ہے
میں بچھڑتے ہوئے سارے کردار کو زندگی بانٹتا
وقت نے بیڑیاں ڈال رکھی تھیں پاؤں میں ورنہ تو میں
شہر کی ساری گلیوں کو ہر وقت آوارگی بانٹتا
میرے بھائی اگر درمیاں اپنے دیوار اٹھتی نہیں
تیرا دکھ بانٹتا اور تجھ سے میں اپنی خوشی بانٹتا
مجھ کو کمرے کی دیوار کھڑکی کلینڈر سمجھتے تھے بس
اور کوئی نہیں جن سے میں اپنی افسردگی بانٹتا
جو اذیت کے خانے میں اب رکھ رہے ہیں محبت کو کاش
عشق ہونے سے پہلے انہیں میرؔ کی شاعری بانٹتا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






