سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
Poet: UA By: UA, Lahoreسوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
تیری گلیوں میں بہت دھول اڑائی ہم نے
تیرے کوچے کی خاک سر پہ سجائی ہم نے
عین ممکن ہے کوئی ہم کو سر پھرا کہہ دے
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
وہ بھی دن تھے کہ تیرے روبرو ہم رہتے تھے
وہ بھی دن تھے کہ تجھ سے دل کی بات کہتے تھے
اب یہاں کون ہے کہ جس سے مدعا کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
کون ایسا ہے جسے تیری طرح سے چاہیں
کون ایسا ہے جسے کھو کے بھی نہ کھو پائیں
دل کی یہ آرزو ہم تجھ سے بارہا کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
کہہ دیا تم سے جو کہنا تھا تم نے سن بھی لیا
ہم نے تیرا کہا تیرے کہے بن سن بھی لیا
اور ہم کیا سنیں ہم اور بھلا کیا کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
ساتھ مانگا تھا ہم نے تم سے دو گھڑی کے لئے
تم نے احسان کیا ہم پہ زندگی کے لئے
کیوں نہ اس نعمت عظمٰی پہ اک قطعہ کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






