سہارا
Poet: Aashi By: Aysha, killeenہر صدا ڈوب گئی دل کے نہا خانوں میں
ریگزاروں میں بگلوں کا جنوں ختم ہوا
ہر طرف پھیلا ہوا رات کا اندھیرا ہے
میں کہ صدیوں کی مسافت سے وہاں پہنچی تھی
ایک ہی شمع جلائی تھی میرے دل نے کبھی
اس دہکتے ہوئے سورج کی چرا کر کرنیں
اس نے چپ چاپ میرے دل میں جگہ پائی تھی
ریگزاوں میں مجھے جھیل نظر آئی تھی
اس کو پانے گے لئے میں ے بہت د سہے
اس سے سونے کی نہ چاندی کی تمنا تھی مجھے
یہی چاہا تھا کہ کچھ پیار کی سوغات ملے
یہی سوچا تھا کہ وہ غم کی چتاؤں سے نکالے مجھ کو
اور جب ہاتھ پھیلایا میں نے الفت کے لئے
اس کے در سے مجھے زخموں کے سوا کچھہ نہ ملا
آج وہ میری امیدوں کا بھرم ٹوٹ گیا
میں تو ارمان بھی دے آئی کسی اور کو آج
اب تو اس دل میں میرے کوئی بھی ارمان نہیں
اب تو زخموں کے سوا کچھ بھی میرے پاس نہیں
زندہ ہونے کا میرے ایک سہارا ہیں یہی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






