شاید کوئی نہیں با آرام کفالتی پہروں کے پیچھے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiشاید کوئی نہیں با آرام کفالتی پہروں کے پیچھے
بڑی الجھنیں ہیں آج بھی خاموش چہروں کے پیچھے
ہم یکتا زندگی میں واجبیت کے ہاں دوڑتے رہے
بہت لٹادی ہیں ایسی حسرتیں یوں غیروں کے پیچھے
یہاں اجڑے دلوں سے گذر کر لوگ مکان دیکھنے آئے
اب بھی کہانیاں بے انصاف ہیں ان دیروں کے پیچھے
کناروں سے ٹکرنا لوٹنا کوئی تخمینہ نہیں گہرائی کا
چھپی ہیں اور شدتیں ان اٹھتی لہروں کے پیچھے
بہت بدمستی ہے آج بھی تردید کے نام پر
کیوں سرکشی بھاگ رہی ہے ان بہروں کے پیچھے
زندگی کی تجدید کے لئے ہماری تو کوئی عدالت نہیں
وقت تو تیر چھوڑ دیتا ہے ان فراروں کے پیچھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






