شب بھر تیری یادوں کا نیا زخم ہے کھایا
Poet: Zubair Tarar By: zubair tarar, vehariشب بھر تیری یادوں کا نیا زخم ہے کھایا
دل نے میری بربادی کا یوں جشن منایا
جس شام بھی محبوب میرے یاد تو آیا
پھر صبح تلک آنکھ سے اشکوں کو بہایا
سینے میں ہے ہر شخص نے نفرت کو دبایا
یوں میں نے محبت کا ثمر دنیا سے پایا
اس شوخ نے مجھ کو نہ کبھی پاس بلایا
ظالم کی مگر یاد نے ہر وقت ستایا
احساس محبت سے یہ دنیا تو ہے خالی
سو قصہ محبت کا ہے تاروں کو سنایا
دھرتی مجھے جنت کا کوئ باغ لگے ہے
جب سے ہے تجھے جان چمن دل میں بسایا
کہنے لگی مردے کو نہیں مارتا کوئی
جب زخم جگر میں نے اجل کو ہے دکھایا
سسی کی طرح سوئ تھی جب درد نے چھیڑا
یادوں نے تیری آن کے پھر مجھ کو جگایا
چلتی ہیں زبیر ان سے بچھڑ کے بھی یہ سانسیں
ہاں حوصلہ دل نے بھی یہ کیا خوب دکھایا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






