شب تنہائی میں
Poet: UA By: UA, Lahoreشب تنہائی میں اذیت اٹھانا کتنا مشکل ہے
کسی کی یاد میں آنسو بہانا کتنا مشکل ہے
گھٹن سینے میں اٹھتی ہے لبوں پر جان آتی ہے
کسی محبوب کو دل سے بھلانا کتنا مشکل ہے
نگاہیں جاگتی رہتی ہیں شب بھر بیقراری میں
سیاہ راتوں میں آنکھوں کا لگانا کتنا مشکل ہے
عجب خاموشیوں کا شور گھیرے میں لئے رکھے
حصار کرب سے خود کو بچانا کتنا مشکل ہے
شمع جو گل ہوا چاہے تو پروانے پہ کیا گزرے
مگر یہ سوچنا اور پھر بتانا کتنا مشکل ہے
نہ پوچھو راز دل والوں کے جلنے اور سنبھلنے کا
یہ اذیت ناک قصہ ہے سنانا کتنا مشکل ہے
میں تم سے دور ہو جاؤں تو مجھ کو یاد نہ کرنا
یہ سب کہنا تو آساں ہے بھلانا کتنا مشکل ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






