شب غم دل کی بے چینی کو سہارا نہ ملا
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiشب غم دل کی بے چینی کو سہارا نہ ملا
آنکھ برسی تو اشکوں کو کنارہ نہ ملا
یہ ہے الفت کی عطا کہ ابھی زندہ ہیں
ورنہ ہو کے رخصت دنیا سے کوئی دوبارہ نہ ملا
تیری آنکھوں نے کیا دلوں پر عجب جادو
کہ ڈھونڈنے والوں کو کوئی تشبیہ کوئی استعارہ نہ ملا
ہم کو یہ غم نہیں کہ لٹے برباد ہوئے
رنج تو ہے کہ دل واپس ہمارا نہ ملا
اس طرح بند ہوئے دروازے وصال کے ہم پر
پھر کوئی ساتھی کوئی ہمدم کوئی پیارا نہ ملا
میں وہ قیدی ہوں جو آزاد نہیں ہو سکتا
زلف کے بل میں تو محشر کا نظارہ نہ ملا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






