شب غم کو بلا کے دیکھ لیا
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiشب غم کو بلا کے دیکھ لیا
دل محبت میں جلا کے دیکھ لیا
اب یہ کہنا باقی نہ رہا
آگ کا دریا سجا کے دیکھ لیا
اب ناممکن ہے تجھے بھلا دینا
بارہا زہر یہ کھا کے دیکھ لیا
راکھ کا ڈھیر ہی ٹھکانہ رہا
آشیاں پھر بنا کے دیکھ لیا
اس غم کا نہ کوئی علاج رہا
میکدہ بھی جا کے دیکھ لیا
جو بھی سن لے خاموش رہتا ہے
حال دل کا سنا کے دیکھ لیا
دل کو سمجھائیں کیسے بھلا بتاؤ کیسے
جو تیری صورت سجا کے دیکھ لیا
چارہ گر تیرا نہ رہا کوئی اشتیاق
پاس سب کے ہی جا کے دیکھ لیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







