شعلہ فشانیاں
Poet: UA By: UA, Lahoreدر در پھرا کرتے ہیں آواروں کی طرح
گردش میں رہے ہر دم بنجاروں کی طرح
وہ شہر وہ گلشن وہ سماں کیا ہوا جناب
مستی میں رہتے تھے جہاں میخواروں کی طرح
بہار کیا گئی ہر پھول کا چہرہ اتر گیا
بھنورا بھی گنگنائے اوازاروں کی طرح
بلبل کا نغمہ ہوک ہوا باد خزاں سے
خاموش ہو کہ رہ گیا بےزاروں کی طرح
جیسے کوئی اپنے سائے سے بچھڑنے کے بعد
صحرا میں بھٹکتا ہے غم کے ماروں کیطرح
تھک ہار کے بیٹھا ہے تنہا ایک شاخ پر
مسیحائی کا منتظر ہو بیماروں کی طرح
ابر خزاں نے گلستاں کو خاک کردیا
اب کوئی بھی منظر نہیں نظاروں کی طرح
جب کرب تنہائی سے یہ چہرہ مرجھانے لگے
کھلتے ہیں تمہیں سوچ کے گلزاروں کے طرح
جب سے تیری یاد کا آنچل تھام لیا
کھلنے لگے مہکنے لگے بہاروں کی طرح
عظمٰی تیرے بیان کی شعلہ فشانیاں
لفظوں نے جلا پائی شراروں کی طرح
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







