شہر وفا میں حشر کا سامان دیکھنا
Poet: Mehr Khan Muhammad Harnota Sar Khush Bharwana By: Khalid Roomi, Rawalpindi شہر وفا میں حشر کا سامان دیکھنا
اب مہ وشوں کے ہاتھ میں میزان دیکھنا
خود آگہی کی جس کو نہ توفیق ہو سکی
ہگ نہ اس کو یار کی پہچان دیکھنا
دنیائے بے ثبات میں کس کو دوام ہے
ہر شخص اس جگہ ہپ ہے مہمان دیکھنا
افسانہ طرب کی طلب ہے تمھیں مگر
غم سے بھرا ہوا مرا دیوان دیکھنا
اے دوست ! تیرا سایہ دیوار دیکھ کر
دل میں اٹھے ہیں حسرت و ارمان دیکھنا
اے میرے غمگسار ، رفیقو ! براہ لطف
راہ وفا میں ہے کوئی انسان دیکھنا
شانوں پہ غم کی شال ہے پلکوں پہ اشک خوں
ہے کون مجھ سا دہر میں ذیشان دیکھنا
ہو گولڑے میں آپ کو جانا اگر نصیب
مہر علی کا قلزم فیضان دیکھنا
سر خوش ہے دل کا داغ فروزاں مثال مہر
کہنے کو ہوں میں چاک گریبان دیکھنا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






