شہر ِآسیب پر چھائے ہیں وباؤں کے منظر
Poet: Dr. Syed Asad Hamdani By: Dr. Asad Hussain Shah, Panjera, Kotli, Azad Jammu and KashmirCovid-19
شہر ِآسیب پر چھائے ہیں وباؤں کے منظر
اب مجھ کو بھاتے نہیں زرد سرسوں کے منظر
چھائے ہیں موت کے سائے چاروں طرف
شہر میں ہو کا عالم، ویران سڑکوں کے منظر
اب کے میری وادیوں میں اترا یاس کا موسم
دھند میں لپٹے ہوئے اداس پربتوں کے منظر
فلک پر تن گئے ہیں سیاہ بادلوں کے خیمے
زمیں کے مرقدپربکھرے پھولوں کے منظر
آسماں سے اتر رہیں ہیں اداس بارشیں
سرمئی آنکھوں میں سرخ آنسوؤں کے منظر
ہوس پرستوں کی نگاہ ہے سکوں کی چھنکار پر
مزدور کی آنکھوں میں روٹی کی حسرتوں کے منظر
اطالوی شاہراؤں پر لاریوں میں بھری لاشیں
شہرِ رومان پر چھائے ہیں وحشتوں کے منظر
جاری ہے
اسد۔ مارچ، ۳۱، ۰۲۰۲
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






