عجیب اشک ہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں سونا چاہتی ہوں مگر سونے نہین دیتے
جگا دیتے ہین نیند پوری ہونے نہیں دیتے
جب بھی اپنی یادوں میں کھو جانا چاہوں
وہیں چونکا دیتے ہیں کھونے نہیں دیتے
عجیب اشک ہیں جو آنکھوں سے باہر نہیں آتے
میری آنکھوں کو کبھی کھل کر رونے نہیں دیتے
میری روح پر لگے ہوئے داغ نہاں بھی
کبھی آنسوؤں سے وہ دھونے نہیں دیتے
وہ خوشی نہیں دیتے تو دکھ بھی نہیں دیتے
ہنسنے نہیں دیتے ہیں تو رونے نہیں دیتے
انہیں بھی برسات بہت بھاتی ہے لیکن
بارش میں آنچل بھگونے نہیں دیتے
پھولوں کی خوشبو انہیں بھی پسند ہے
مگر پھول آنگن میں بونے نہیں دیتے
اگرچہ میرے پاس آتے سے گریزاں رہتے ہیں
مجھے خود سے دور بھی ہونے نہیں دیتے
عظمٰی وہ پہلو میں رہتے ہوئے بھی
اپنے تصرف میں ہونے نہیں دیتے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






