عورت مرتی جائے
Poet: azharm By: azharm, dohaپھینک اُتارا پل میں ایسے
بیٹی ہو کر بوجھ تھا جیسے
اپنی بے بس جنس کا تاواں
کب تک بھرتی جائے
عورت مرتی جائے
کیسی یہ تقدیر ہے پائی
دام میں بڑھ کر اکثر بھائی
خدمت خاطر حاضر ہر دم
کیا کیا کرتی جائے
عورت مرتی جائے
جس کو مندر مان چلی تھی
اُس کو کوئی اور بھلی تھی
خوف ہے ہر دم کب چھوڑے گا
کب تک ڈرتی جائے
عورت مرتی جائے
کوکھ میں جس کا بوجھ اُٹھایا
فیض نہ اُس سے کچھ بھی پایا
باہر اک مُسکان سجا کرر
اندر سڑتی جائے
عورت مرتی جائے
انساں کی تزلیل یہ رسمیں
اظہر کر تبدیل یہ رسمیں
اپنی ان رسموں کی سولی
کب تک چڑھتی جائے
عورت مرتی جائے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






