عید کے دن بھی شرارے چمکے
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreعید کے دن بھی شرارے چمکے
نہ غبارے نہ غرارے چمکے
عید کے دن بھی شرارے چمکے
آگ چمکی ہے گلی کوچوں میں
جب بھی نفرت کےشرارے چمکے
شیخ چمکا جو کبھی منبر پر
شہر میں خون کے دھارے چمکے
ہم غریبوں کی تو اُڑ گئی گردن
جب امیروں کے اِشارے چمکے
رہنماوُں کی چمک کے آگے
کس میں ہمّت ہے کہ پیارے چمکے
جیتنے والے بھی کب چمکے ہیں
نہ ہی وہ لوگ جو ہارے چمکے
ہم تو چمکے نہ کسی بھی صورت
اور وہ پاوُں پسارے چمکے
جس نے بھی خواب سنوارے چمکا
کب یہاں نیند کے مارے چمکے
دل ہی جب بجھ گیا اُس کا یارو
وسیم اب کس کے سہارے چمکے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






