غریبوں کے لیے چولھا جلانا ہو گیا مشکل
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: غلام مصطفیٰ , Lahoreغریبوں کے لیے چولھا جلانا ہو گیا مشکل
یہاں دو وقت کی روٹی کمانا ہو گیا مشکل
یہاں پھر لوگ پتوں سے چھپائیں گے بدن اپنا
یہاں کپڑے سے پیراہن بنانا ہو گیا مشکل
یہاں اینٹوں کے مسکن کا بھلا کیا خواب دیکھیں ہم
یہاں میدان میں خیمہ لگانا ہو گیا مشکل
غلاموں کی نئی کھیپیں یہاں تیار ہوں گی پھر
کہ اب نوخیز نسلوں کو پڑھانا ہو گیا مشکل
وطن کو چھوڑ کر اپنے وہ کیوں پردیس نہ جائیں
یہاں جن کے لیے جانیں بچانا ہو گیا مشکل
یہاں انصاف ملنے کی بھلا امید کیا ہو گی
یہاں چوروں پہ انگلی بھی اٹھانا ہو گیا مشکل
فریب و کِذب کی عینک لگی ہے جن کی آنکھوں پر
انہیں اب آئینہ سچ کا دکھانا ہو گیا مشکل
نہ جانے کون سے مذہب کے جابر حکمراں یہ ہیں
خدا کے نام سے جن کو ڈرانا ہو گیا مشکل
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






