غضب کے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالغضب کے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں
وہ طنزاً مسکرائے جا رہے ہیں
جنہیں نفرت سے ٹھکرایا تھا ہم نے
وہی رشتے نبھائے جا رہے ہیں
ہماری داستانِ زندگی میں
نئے کردار لائے جا رہے ہیں
ہمیں مطلب ہے صرف اپنی فنا سے
سو اپنے دن گنوائے جا رہے ہیں
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا تو
بہانے کیوں بنائے جا رہے ہیں
شکستِ عشق کو تسلیم کر کے
محل خوابوں کے ڈھائے جا رہے ہیں
خرابوں میں بھٹکنے کے لیے اب
ترے رستے مٹائے جا رہے ہیں
خدا ہو یا کہ آدم یا پھر ابلیس
سبھی دل سے بھلائے جا رہے ہیں
زمیں میں ہر طرف بسنا ہے ہم کو
تبھی در در پھرائے جا رہے ہیں
نہ جانے کیا ہے ہو اور کس کا ہے وہ
جسے پل پل گنوائے جا رہے ہیں
یہ ہجر و وصل کے وحشی درندے
مجھے دن رات کھائے جا رہے ہیں
بتاؤ کیا رکھا ہے آسماں میں
جو امیدیں ہی لگائے جا رہے ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






