غلط فہمی تھی وہ میری
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIغلط فہمی تھی وہ میری
کسی سے بھی محبت تھی نہیں اس کو
وہ اپنی ذات سے خود عشق میں مصروف تھا اتنا
اسے اطراف میں پھیلی محبت ڈھونگ لگتی تھی
وہ بس اپنی ہی خاطر زندگی کو جینا چاہتا تھا
..بڑھایا ہاتھ جو میری طرف اس نے
تو میں محسوس کر بیٹھا
”اسے مجھ سے محبت ہے“
مگر تب بھی حقیقت میں کہیں ایسا نہیں تھا کچھ
فقط یہ ہی حقیقت تھی
وہ میری ذات میں اپنی خوشی کی جستجو میں تھی
کہ اس نے آنکھ میں میری دھنک سے رنگ دیکھے تھے
کہ اس کو لمس میں میرے مہکتے پھول ملتے تھے
کہ اس کی ہر خوشی ہر مسکراہٹ پر ، جو اپنی جان دے دیتا
وہ فقط میری ہی ہستی تھی
”اسے بس خود سے محبت تھی“
سو میری ان نگاہوں میں وہ تکتی تھی شبیہ اپنی
میں اس کی اک ذرا سی ضد کو اس کا عشق سمجھا تھا
نہیں تھا عشق وہ اُس کا
فقط اک شائبہ تھا وہ محبت کا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






