غم کی کِس شکل میں تشکِیل ہُوئی جاتی ہے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہغم کی کِس شکل میں تشکِیل ہُوئی جاتی ہے
آدمیت کی بھی تذلِیل ہُوئی جاتی ہے
ہر قدم زِیست چھنکتی ہے چھناکا بن کر
جِس طرح کانچ میں تبدِیل ہُوئی جاتی ہے
اُس کے حِصّے کی زمِینیں بھی مِرے ہاتھ رہِیں
مُستقِل طور پہ تحصِیل ہُوئی جاتی ہے
اب مِرا اُس سے تعلُّق بھی نہِیں ہے کوئی
اور احکام کی تعمِیل ہُوئی جاتی ہے
میں نے کھائی تھی قسم کُچھ بھی عیاں ہو گا نہیں
پر بیاں ساری ہی تفصِیل ہُوئی جاتی ہے
اور کُچھ روز مِرا ظرف کشا کش میں رہے
اِس بہانے مِری تکمِیل ہُوئی جاتی ہے
سارا دِن دُھوپ میں جلتا ہُوں فقط روٹی کو
زخم سے پِیٹھ مِری نِیل ہُوئی جاتی ہے
ابرہہؔ بن کے نہ کر میرے حرمؔ پر حملہ
بے بسی اب تو ابابِیلؔ ہُوئی جاتی ہے
کِس تکلُّف سے تِرا درد مِرے ساتھ رہا
یاد کی رو ہے کہ تمثِیل ہُوئی جاتی ہے
اب تو دو وقت کی روٹی بھی میسّر ہے کہاں
زِندگی بُھوک میں تحلِیل ہُوئی جاتی ہے
میں سمجھتا تھا اُسے بُھول گیا ہوں حسرتؔ
پر چُبھن دِل میں مِرے کِیل ہُوئی جاتی ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






