غم کی کِس شکل میں تشکِیل ہُوئی جاتی ہے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہغم کی کِس شکل میں تشکِیل ہُوئی جاتی ہے
آدمیت کی بھی تذلِیل ہُوئی جاتی ہے
ہر قدم زِیست چھنکتی ہے چھناکا بن کر
جِس طرح کانچ میں تبدِیل ہُوئی جاتی ہے
اُس کے حِصّے کی زمِینیں بھی مِرے ہاتھ رہِیں
مُستقِل طور پہ تحصِیل ہُوئی جاتی ہے
اب مِرا اُس سے تعلُّق بھی نہِیں ہے کوئی
اور احکام کی تعمِیل ہُوئی جاتی ہے
میں نے کھائی تھی قسم کُچھ بھی عیاں ہو گا نہیں
پر بیاں ساری ہی تفصِیل ہُوئی جاتی ہے
اور کُچھ روز مِرا ظرف کشا کش میں رہے
اِس بہانے مِری تکمِیل ہُوئی جاتی ہے
سارا دِن دُھوپ میں جلتا ہُوں فقط روٹی کو
زخم سے پِیٹھ مِری نِیل ہُوئی جاتی ہے
ابرہہؔ بن کے نہ کر میرے حرمؔ پر حملہ
بے بسی اب تو ابابِیلؔ ہُوئی جاتی ہے
کِس تکلُّف سے تِرا درد مِرے ساتھ رہا
یاد کی رو ہے کہ تمثِیل ہُوئی جاتی ہے
اب تو دو وقت کی روٹی بھی میسّر ہے کہاں
زِندگی بُھوک میں تحلِیل ہُوئی جاتی ہے
میں سمجھتا تھا اُسے بُھول گیا ہوں حسرتؔ
پر چُبھن دِل میں مِرے کِیل ہُوئی جاتی ہے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






