قصور آپ کا، شکوہ بھی آپ ہی سے مجھے
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaقصور آپ کا، شکوہ بھی آپ ہی سے مجھے
نہی ہے کوئی سروکار عاشقی سے مجھے
بجھا ہے وقت ضرورت، ہوا چلی بھی نہیں
کیا چراغ نے محروم روشنی سے مجھے
بُرا نہیں ہے کہا اور سُنا سمجھتا ہوں
خدا بچائے مگر بات ان کہی سے مجھے
ابھی ابھی تو ڈسا علم نے مرے مجھکو
ابھی تو خوف سا آتا ہے آگہی سے مجھے
اسیر سب ہیں مرے ساتھ ساتھ زنداں میں
بچائے کون اب اُس زلف شبنمی سے مجھے
گوارا تُم سے اگر ساتھ ہو نہیں سکتا
بس آ کے کان میں کہنا یہ خامشی سے مجھے
اُسے یہ ڈر تھا کہ آگے نکل نہ جاوں کہیں
تو اُس نے روک دیا اپنی پیروی سے مجھے
جہاں گزار کے بچپن ہوا بڑا اظہر
ہے ایک اُنس وہاں کی گلی گلی سے مجھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






