قوت ِ عشق پہ اپنی اعتماد کر
Poet: Rana Tabassum Pasha(Daur) By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAقوت عشق پہ اپنی اعتماد کر کعبہء دل دیارِ جاں کو آباد کر
مسلک بےوفائی سے الحاد کر جفا پرستوں کے خلاف جہاد کر
گر کوئی کسی کا سودائی ہو گلی گلی اس کی رُسوائی ہو
پر معشوق جب ہرجائی ہو تو دلِ ناداں خود کو نہ یوں برباد کر
صدیوں کی انمول چاہتیں ہماری روحوں کی ہیں امانتیں
مرے حال پہ وہ عنائتیں میں یاد کروں کبھی تو بھی یاد کر
مرحلہ بھلانے کا ہے صبر آزما لاکھ کرتا رہے تو جور و جفا
میں تو ہوں وفا آشنا چاہے جتنے بھی ستم نئے ایجاد کر
بن کے شعلہء غم بھڑکتا رہا آہوں کی لَے پر دھڑکتا رہا
مرے پہلو میں جو تڑپتا رہا کہتا تھا مر جا پر نہ فریاد کر
کِھلےتھےجس جا قربتوں کے پھول اُڑ رہی ہےحسرتوں کی دھول
کیسے میں جاؤں تجھ کو بھول خدارا مجھے اپنے غم سے آزاد کر
یہ گردِ سفر یہ غبارِ کارواں دیتا ہے گمشدہ منزلوں کا نشاں
جائےگا تُو روٹھ کے جہاں جہاں چل اب بس کر دل اپنا شاد کر
سر پہ دھرا ہے دست اجل رعنا ہوتے ہوتے بھی قتل
دُکھی سی کہی ہے ایک غزل یہ خطا معاف میرے صیاد کر
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






