لوگ اس عشق میں کم خواب تھے کتنے
Poet: Naveed Ahmed Shakir By: Naveed Shakir, Faisalabadلوگ اس عشق میں کم خواب تھے کتنے
ایک حسرت مگر بے تاب تھے کتنے
ذکر جب بھی ہو ان کاتو ادب سے ہو
لوگ تو سادہ تھے نایاب تھے کتنے
ڈس رہا ہے کسی کو آج اک اک پل
یاد ہے ماضی میں شاداب تھے کتنے
جوں جوں امید بڑھتئ گئی سب کی
اُن کی ویرانی میں اسباب تھے کتنے
کاٹ کے رکھ دیئے جو گھر کسی کے تھے
روئے اس پیڑ کے سنجاب تھے کتنے
دیکھ لی ہے شرارت اس زمانے کی
تم جو تھے پاس تو احباب تھے کتنے
آنکھ سوکھی ہوئی ہے آج کل شاکر
ورنہ اس آنکھ میں سیلاب تھے کتنے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






