لیۓ پھرتے ہیں دِل کا بوجھ دِل پر ایک مدُت سے
Poet: a By: Azra Naz, UKلیۓ پھرتے ہیں دِل کا بوجھ دِل پر ایک مدُت سے
کہ ہم اوڑھے ہوۓ ہیں غم کی چادر ایک مدُت سے
ہم اپنے خواب جانے کِس گلی میں چھوڑ آۓ تھے
ہوۓ ہیں رتجگے اپنا مقدر ایک مدُت سے
کہا ہے آپ سے کِس نے کہ ہم صحرا گذیدہ ہیں ؟
چھپا رکھا ہے آ نکھوں میں سمندر ایک مدُت سے
نچوڑی پھوُل سے چہروں کی ساری تازگی کِس نے؟
صفِ ماتم بچھایٔ کِس نے گھر گھر ایک مدُت سے
کبھی اے کاش کھل کے ابر دھرتی پر برس جاۓ
لگی ہے پیاس کھیتوں کو برابر ایک مدُت سے
تجھے جانِ تمنا جب سے اِس دِل میں بسایا ہے
مجھے لگتا ہے بیگانہ مِرا گھر ایک مدُت سے
نجانے کِس کی نظرِ بد نے کی ہے چاندنی میلی
نہیں پھر چاند نے دیکھا پلٹ کر ایک مدُت سے
انا کیا چیز ہوتی ہے یہ کِس کو یاد ہے عذراؔ
جھکا رکھا ہے اُن کے سامنے سر ایک مدُت سے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






