ماضی کی یادوں کا قلعہ بنا کے
Poet: zahida ali By: zahida ali, pakpattan sharifماضی کی یادوں کا قلعہ بنا کے
ان کے جھروکوں سے میں دیکھتی ہوں
آنسوؤں کی ہے ندیا بہتی ہوئی
اور اس میں آس کی ناؤ ڈولتی ہوئی
ڈھونڈتی ہے کنارا مگر ہے کہاں
اندھیرا اندھیرا اندھیرا
اجالا مگر ہے کہاں
آہوں سسکیوں کا شور ہے
لاشیں آرزؤں کی تڑپتی ہوئیں
بکھری ہیں جا بجا
اٹھی نظر تو دیکھا عجب اک تماشا
اپنے ہی ہاتھ میں دبا ہوا ہے خنجر
اپنا ہی لہو اپنے ہاتھ پر
کانپ اٹھا سارا جسم و تن
کہاں یارا اب اور دیکھنے کا
خوف سے کر لیں بند آنکھیں
نکل آئی ماضی کی دھند سے
ابھی سنبھل نہ پائی تھی کہ
ڈر گئی حال کا آئینہ دیکھ کر
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






