مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔۔درد ہوتا ہے ۔۔۔
Poet: شفق کاظمی By: Shafaq kazmi, Karachiﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﮞ
ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﺩﻝ ﭘﺮ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﮯ ﺟﻮﮌﮮ ﮨﺮ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻧﮯ
ﺳﮯ ڈﺭﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ
ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﮐﮭﻮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮫ
ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮯ ﺯﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﮐﺘﯽ ۔
ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺑﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﺷﻔﻖ ﺧﻮﺩ ﻏﺮﺽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﺷﻔﻖ ﺑﮯ ﺣﺲ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ،ﺩﺭﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﺫﯾﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ
ﺭﻭﺗﯽ،ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ
ﺭﻭﺗﯽ ﮨﻮﮞ۔ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﺍﭘﺲ
ﺁﺟﺎﺅ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﯽ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ
ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺭ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ
ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






