مجھے دکھ دو
Poet: Mustafa Sahil By: Mustafa Sahil, Islamabadبے توقیر ہی مسند سے اتارا جاؤں گا
مجھے دکھ دو وگرنہ میں مارا جاؤں گا
مجھ پہ گزریں اب سبھی غم یہی بہتر ہے
میں اسی غم کی نسبت سے پکارا جاؤں گا
مجھ سے چھینو مجھے مارو اور نیلام کرو
میں یوسف نہیں کہ مصر پہ اتارا جاؤں گا
مینے ہر روز ہر در سے ٹھوکر کھانی ہے
ہر محفل سے ہوکے اب بیچارہ جاؤں گا
خوب نوچے گی تواتر سے یہ ذیست مجھے
لاش مرقد کو پہنچے گی سنوارا جاؤں گا
تم نے بدلہ ہے... اپنے نام کا اگلا حصہ
میں ہر دور تیری نسبت ہی پکارا جاؤں گا
گر تم کو ہو صدقہ کسی مفلوس کا درکار
میں تم پر میری جان پورا ہی وارا جاؤں گا
مجھے دکھ دو دکھ دو وگرنہ....
میں مارا جاؤں گا، مارا جاؤں گا.....
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






