محبتیں
Poet: Abdul Waheed Sajid By: Abdul Waheed Ghouri, Dunya Pur, District Lodhranوہ شخص تجھ سے بچھڑ گیا ہے اب اس کا اتنا ملال نہ کر
تو اپنی دنیا میں مست رہ جا کسی کا اتنا خیال نہ کر
کہا جو میں نے وفا کرو گے تو منہ بنا کے وہ مجھ سے بولا
میں تجھ سے پہلے یہ کہہ چکا ہوں کہ الٹے سیدھے سوال نہ کر
بنی ہے دنیا یہ سنگدلوں کی ہم اجڑے لوگوں کو کون چاہے؟
اے دوست میری یہ التجاء ہے تو ہم سے رشتہ بحال نہ کر
حیران پھرتا ہے یہ زمانہ دیکھ کر تیری بے رخی کو
جہاں کرے نہ کوئی محبت تو قائم ایسی مثال نہ کر
یہی برائی بہت ہے میری میں ہنس کے ملتا ہوں ہر کسی سے
میری ناکامی سمجھ لے لیکن یہ راز میرا اچھال نہ کر
تمہیں تو شاید خبر نہیں ہے تیری نگاہ نے تباہ کیا ہے
یوں مسکرا کے نہ دیکھ پیارے کہ جینا میرا محال نہ کر
دل جلانا ہے کام جن کا وہ خاک سمجھیں محبتوں کو؟
تو بھی ساجد بھلا دے اسکو خود کو غم سے نڈھال نہ کر
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






