محبت کرتے ہو تو رلاتے کیوں ہو
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستانمحبت کرتے ہو تو رلاتے کیوں ہو
پاس آ کر پھر دور جاتے کیوں ہو
محبت احساس ہے تو بتاؤ نا ذرا
حساس لوگوں کو تم ستاتے کیوں ہو
اپنی اوقات میں رہنے نہیں دیتے ہم کو
بسا کے نگاہوں میں پھر گراتے کیوں ہو
جب یہ طے ہے تم ہمارے نہیں
روز میری یاد میں چلے آتے کیوں ہو
اب تو شاید اسے نام میرا یاد بھی ہو
دل ء ناداں تم بات بڑھاتے کیوں ہو
ہم نے مانا کہ کچھ بھی نہیں ہم
تم بھلا خود کو جلاتے کیوں ہو
ہم تو پڑھ لیتے ہیں آنکھوں سے حقیقت
کھوکھلے لفظوں سے میری جان چھپاتے کیوں ہو
عیاں بھی ہوۓ جاتے ہو مجھ پہ تم
میرے شوق پہ پھر خود کو چھپاتے کیوں ہو
جھوٹ ہیں تو ہم سے ترک ء تعلق ہی سہی
سچ ہیں گر تو دامن بچاتے کیوں ہو
اس نے پوچھا بھی تو میرا حال نہ پوچھا
اس نے پوچھا اب بھی نبھاتے کیوں ہو
اس سے توقع بھی نہیں رفوگری کی عنبر
دل کو سمجھاؤ اسے حال سناتے کیوں ہو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







